Titliyaan, Phool aur Khushboo (Rahat Jabeen) / تتلیاں، پھول اور خوشبو از راحت جبیں
Novels , Rahat Jabeen / May 18, 2019

Titliyaan, Phool aur Khushboo (Rahat Jabeen) تتلیاں، پھول اور خوشبو از راحت جبیں تتلیاں، پھول اور خوشبو  صاف ستھرے تازہ لپے لپائے وسیع وعریض صحن میں دھوپ تیزی سے پھیلی۔ اگرچہ ابھی صبح کاہی وقت تھا۔۔۔ مگر سورج سرپر آکھڑا ہوا۔ مسرت نہاکر نکلی اور لمبے بالوں کو تولیے میں لپیٹے اپنے کمرے میں گھس گئی۔ ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھلا اور جنت بی بی باہر نکلیں۔ دبلی پتلی، دھان پان ساوجود، صاف رنگت، ہر حرکت میں تیزی و پھرتیلاپن نمایاں تھا۔ انہوں نے دھوپ میں پڑی چارپائی گھسیٹ کر دیوار کے ساتھ کی۔ اس پر پرانی دھلی ہوئی چادر بچھائی، پھر کمرے کی طرف منہ کر کے آواز دی۔ “ستی او۔۔۔ ستی۔۔۔ ذرا مجھے پرات تو پکڑادے” انہوں نے کونے میں پڑا ساگ کا گٹھڑ کھول کر چارپائی پر پھیلایا۔ بہت آوازیں دینے پر بھی مسرت ٹس سے مس نہ ہوئی تو ان کو تاؤ آگیا۔ لگی ہوگی سولہ سنگھار کرنے۔ ماں تو بکواس کرتی ہے۔ وہ غصے سے بڑبڑاتی اٹھیں اور خود ہی کچن سے مطلوبہ اشیاء لے آئیں۔ چاند سا مکھڑا۔۔۔ اترا ہے دل میں۔۔۔ گنگناتے ہوئے مسرت نے آخری بار آئینے میں اپنا جائزہ لیا اور باہرنکل آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

Saari Bhool Hamari Thi (Rahat Jabeen) / ساری بُھول ہماری تھی از رحت جبیں
Novels , Rahat Jabeen / May 7, 2019

Saari Bhool Hamari Thi (Rahat Jabeen) ساری بُھول ہماری تھی از رحت جبیں پیش لفظ  سنو! تم میری ماما سے کہہ سکتی ہو کہ میں کل تمہارے ساتھ تمہارے گھر گئی تھی۔ میں نے سراٹھا کراُن نوخیز چہروں کے عقب کی کہانی کھوجنے کی سعی کی۔ کیوں؟ “میری کزن نے کل مجھے “اُس” کے ساتھ دیکھ لیا تھا۔” میں ساکت سی رہ گئی۔ میں انہیں روکنا چاہتی تھی۔ انہیں بتانا چاہتی تھی کہ “اے نوخیز تتلیو! یہیں رک جاؤ۔ ورنہ تمہارے پرجل جائیں گے۔۔۔ کہکشاں سمجھ کر جس رستے پر قدم رکھا ہے۔۔۔ وہاں پاؤں فگار ہوتے ہیں۔ وہ مجھ سے دور جا چکی تھیں اور میں آنکھوں میں آئی دھند کے پار سفید یونیفارم میں موجود لڑکیوں کو دیکھ رہی ہوں۔۔۔ میرا ماضی میرا ہاتھ پکڑ کر مسکرارہا ہے۔ جہاں میں اور فاخرہ اپنے اپنے بیگ کندھوں پر لٹکائے، فائل ہاتھوں میں پڑے اپنے نئے نئے جوگرز کو دیکھ رہی تھیں۔ آج کالج میں پہلا دن تھا۔۔۔ “امی السلام علیکم! ابائی السلام علیکم” اورابائی کا ہاتھ ہم دونوں کے سروں پر باری باری ٹھہرا۔ (تب وہ ہاتھ اتنا بوڑھا نہیں تھا۔) “بیٹا! سیدھے کالج جانا اور سیدھے گھر آنا ہے۔“ اس ایک جملے کی نصیحت نے ہمارے گرد حدود…

Ae Waqt Gawahi Dey (Rahat Jabeen) / اے وقت گواہی دے از راحت جبیں
Novels , Rahat Jabeen / March 12, 2019

Ae Waqt Gawahi Dey (Rahat Jabeen) اے وقت گواہی دے از راحت جبیں اے وقت گواهی دے پریویس کی کلاسز شروع ہونے کے دن سے لے کر آج تک وہ دیکھ رہی تھی کہ وہ نوجوان مسلسل اس کا پیچھا کر رہا تھا ۔ شروع میں تو زارا عمیر نے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی کہ یونیورسٹی تھی جہاں تعلیم کے لیے سنجیدہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ان جیسوں کی بھی کمی نہ تھی، جن کا مقصد محض وقت گزاری کے لیے جامعہ کا ماحول خراب کرنا تھا۔ مگر اب اتنے دن گزر جانے کے بعد وہ اسے نظر انداز نہیں کرسکتی تھی، سو لاشعوری طور پر اس کی نگاہیں اپنے اردگرد اسے تلاش کرنے لگتیں اور زارا عمیر کو بھی کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئی تھی ۔ وہ ہمیشہ اس کے آس پاس ہی موجود ہوتا۔ لائبریری میں عین سامنے والی ٹیبل پر، ڈیپارٹمنٹ کے باغیچے میں پڑے بنچ پر، سیمینار روم میں اس کے عقب والی سیٹ پر اور کیفے ٹیریا میں وہ ہمیشہ اس سے پہلے ہی موجود ہوتا۔ حالانکہ اس نے زارا سے بھی کچھ نہ کہا تھا۔ مگر زارا کو اس کا ٹکٹکی باندھ دکر دیکھنا نا گوار گزرتا، ایک الجھن کا…