Guftgoo 2 (Wasif Ali Wasif) / گُفتگُو 2 از واصف علی واصف
Philosophy , Wasif Ali Wasif / April 5, 2019

Guftgoo 2 (Wasif Ali Wasif) گُفتگُو 2 از واصف علی واصف عرض حال لب پر آ کر رہ گئی ہے عرض حال کیا کرے خورشید سے ذرہ سوال )واصف علی واصف) واصف صاحبؒ کی گفتگو کی محفل کا جب اختتام ہوجاتا تو محفل کے شرکاء کو اپنے اپنے گھر جانے کی اجازت مل جاتی مگرصرف چند اصحاب وہاں سے روانہ ہوتے اور باقی لوگ اسی طرح سر جھکائے اور زبان بند کیے اپنی کیفیت میں سرشار بیٹھے رہتے۔ دیکھنے والے کو صاف نظر آ تا کہ گفتگو کی تاثیر نے وہ جادو کیا ہے کہ پاؤں بِنا زنجیر کے زمین کے ساتھ جکڑے گئے ہیں۔ اس صورت حال کو بھانپ کر قبلہ واصف صاحبؒ فردا فردا سب سے کچھ گفتگو کر تے، کوئی بات پوچھ لیتے یا گھر واپس جانے کے لیے سواری کے بارے میں دریافت کرتے۔ یوں ایک ایک کر کے سب کو روانہ کرتے۔ محفل کی گفتگو سے پیدا ہونے والی وارفتگی کو جنون بننے سے پہلے ہی آپ اس کی ترفيع او تشفی فرمادیتے۔ اس طرح کا منظر بہت ہی عرصہ بعد دیکھنے میں آیا تھا ایسا منظر جس نے لاہور کی ادبی، علمی اور روحانی فضا کو معطر اور منور کر دیا تھا۔ ان کا علم…

Guftgoo 1 (Wasif Ali Wasif) / گُفتگُو 1 از واصف علی واصف
Philosophy , Wasif Ali Wasif / April 4, 2019

Guftgoo 1 (Wasif Ali Wasif) گُفتگُو 1 از واصف علی واصف عرض ناشر زیر نظر کتاب واصف صاحب کے ان ارشادات پرمبنی ہے جو انہوں نے لوگوں کے مختلف سوالات کی وضاحت میں فرمائے ۔ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جب آپؒ کے علم و عرفان کا احساس ہوا تو وہ جوق در جوق آپ کے پاس آنے لگے۔ انفرادی ملا قاتوں سے بات آگے نکل کے “محفل” کی صورت اختیار کر گئی۔ ان محفلوں میں اصحاب جمع ہوتے، بعد از نمازِ مغرب تقریب کا آغاز تلاوت سے ہوتا اور پھر آپؒ لوگوں کو دعوت دینے کے سوالات پوچھیں۔ یوں تو سوالات وسیع موضوعات پر مبنی ہوا کرتے مگر آپ اکثر فرماتے کہ مروج علوم تو کتابوں میں موجود ہیں ایسے سوالات پوچھا کریں جن کا تعلق آپ کی اپنی ذات اور ذاتی الجھن یا تکلیف سے ہو اور جن کا جواب کتاب میں نہ ملے اور یہ بھی کہا کرتے کہ آپ کو اس زمانے میں اللہ کے راستے پر چلنے میں جو جو دشواری پیش آرہی ہو اس کے حل کے لیے سوال پوچھا کرو۔ سوال کا جواب اس وضاحت سے فرماتے کہ پھر محفل میں موجود باقی اشخاص کی الجھنیں بھی دور ہو جاتیں۔ جب…

Baba Sahiba (Ashfaq Ahmed) / بابا صاحبا از اشفاق احمد
Ashfaq Ahmad , Philosophy / February 22, 2019

Baba Sahiba (Ashfaq Ahmed) بابا صاحبا از اشفاق احمد بابا صاحبا…. ایک واجبی سا تعارف باباصاحب ایک مختلف قسم کا ادب ہے جو آسانی سے تحریر میں نہیں آ سکتا۔ اس ادب پارے پر خاں صاحب کی یادوں کی برسات موسلا دھار نہیں بلکہ رات کے پچھلے پہر بوندا باندی کی صورت ادھ کھلے در پچوں پر جھنکار بن کر توجہ طلب رہتی ہے۔ یاد کا بھی کچھ کراماتی سلسلہ ہے۔ عام طور پر ایسے واقعات اور حالات آ دمی کی یاد میں رہ جاتے ہیں جن کا تعلق ناکامی، ٹریجڈی، احساس کمتری اور احساس جرم سے ہوتا ہے۔ خوشی کے واقعات قوس قزح کی طرح انسان کے ذہنی افق پر ابھرتے ہیں اور پھر جلد محو ہو جاتے ہیں۔ یہ کوئی سو فیصد والا اصول نہیں بلکہ ان ہی یادوں کی رنگارنگی سے ان کے جداگانہ تجربے سے زندگی کا تارو پود بنتا ہے۔۔۔ میں نے خاں صاحب کے ساتھ رہ کر دیکھا کہ انہی یادوں نے اُن کی تلاش کے راستے کھولے۔ وہ اپنی ناکامیوں سے جاننا چاہتے تھے کہ انسان کا اصل مقصد کیا ہے؟ وہ یہاں کیوں ہے اور کیا حاصل کرنا چاہتاہے۔۔۔۔ اس تلاش کے سلسلے میں ہی وہ بالوں کے پیچھے بھاگے۔ کبھی افسانے…