Naan’Baai Ki Beti (Aneeza Sayyed) / نان بائی کی بیٹی از عنیزہ سید
Aneeza Sayyed , Novels / May 26, 2019

Naan’Baai Ki Beti (Aneeza Sayyed) نان بائی کی بیٹی از عنیزہ سید پیش لفظ مجھے کہانیاں لکھتے ستائیس سال ہو چلے، اور ان ستائیس سالوں کے طویل سفر میں، میں نے جو کہانیاں، افسانے، ناولٹ اور ناول لکھے ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں تو بہت کم بھی نہیں ۔ لکھنے کے معاملے میں، مَیں انسپائریشن کی شدت سے قائل ہوں۔ جب تک کوئی موضوع ، کوئی واقعہ شخصیت یا منظر مجھے اس حد تک انسپائر نہ کرے کہ اس پر قلم اٹھانے کو میری روح بے چین ہو جائے میں کہانی نہیں لکھ سکتی۔ موضوعات کا تنوع ، وہ دوسری چیز ہے جو کہانی لکھنے کے معاملے میں میری دوسری ترجیح ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف پہلو ہی کہانی کاری کی تاریخ میں کہانی کاری کا باعث بنتے رہے مگر اس تاریخ کے آغاز سے اب تک کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ قلم کار کے قلم کا موضوع کو “ٹریٹ” کرنے کا طریقہ کار ہی وہ فرق ہے جو ایک کو دوسرے سے منفرد کرتا ہے۔ گویا موضوع تو وہ ہی گنے چنے مگر ان کا ٹریٹمنٹ مختلف رہا۔ یہاں موضوعات کے تنوع سے میری مراد میری ایک کہانی کے موضوع کا دوسری کے موضوع سے…

Marg-e-Barg (Tanzeela Riaz) / مرگِ برگ از تنزیلہ ریاض
Novels , Tanzeela Riaz / May 24, 2019

Marg-e-Barg (Tanzeela Riaz) مرگِ برگ از تنزیلہ ریاض فہرست مرگِ برگ دشتِ ظلمت میں مُحبت رنگ لاتی ہے عشق گزیدہ مرگِ برگ ڈرامہ ختم ہوتے ہی پورا ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا تھا۔ پچھلی نشستوں کے عین اوپر نصب بڑے بڑے بلب روشن ہونا شروع ہوئے ۔ تاریکی بہت سرعت سے روشنی کا لبادہ اوڑھ کر اجالے کا روپ دھارنے لگی تھی۔ لمحہ بھر میں تمام ہال روشنی کی تیز پھوار سے بھیگ چکا تھا۔ اسٹیج پر لگا بھاری سرخ پرده تیزی سے برابر ہونے لگا۔ تالیوں کی گونج دھیرے دھیرے دم توڑنے لگی۔ لوگ ایک کے بعد ایک گرتے پڑتے، ہنستے گاتے ایک دوسرے کو دھکا دیتے اس دروازے کی سمت بڑھنے لگے، جہاں Exit لکھا تھا۔ ہال آہستہ آہستہ خالی ہونے لگا اور ایسے میں دو بھوری بے حِس آنکھیں ابھی بھی ٹکٹکی باندھے سامنے کی جانب دیکھنے میں مگن تھیں۔ ان آنکھوں میں نیلگوں شعلوں کی لپک دور سے بھی محسوس کی جاسکتی تھی۔ روشنیاں جل چکی تھیں۔ ہال خالی ہو چکا تھا۔ پردہ برابر ہو چکا تھا اور ڈرامہ ختم ہو چکا تھا۔ یہ کہانی وہاں سے شروع ہوئی جہاں ڈرامہ ختم ہوا تھا۔

Titliyaan, Phool aur Khushboo (Rahat Jabeen) / تتلیاں، پھول اور خوشبو از راحت جبیں
Novels , Rahat Jabeen / May 18, 2019

Titliyaan, Phool aur Khushboo (Rahat Jabeen) تتلیاں، پھول اور خوشبو از راحت جبیں تتلیاں، پھول اور خوشبو  صاف ستھرے تازہ لپے لپائے وسیع وعریض صحن میں دھوپ تیزی سے پھیلی۔ اگرچہ ابھی صبح کاہی وقت تھا۔۔۔ مگر سورج سرپر آکھڑا ہوا۔ مسرت نہاکر نکلی اور لمبے بالوں کو تولیے میں لپیٹے اپنے کمرے میں گھس گئی۔ ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھلا اور جنت بی بی باہر نکلیں۔ دبلی پتلی، دھان پان ساوجود، صاف رنگت، ہر حرکت میں تیزی و پھرتیلاپن نمایاں تھا۔ انہوں نے دھوپ میں پڑی چارپائی گھسیٹ کر دیوار کے ساتھ کی۔ اس پر پرانی دھلی ہوئی چادر بچھائی، پھر کمرے کی طرف منہ کر کے آواز دی۔ “ستی او۔۔۔ ستی۔۔۔ ذرا مجھے پرات تو پکڑادے” انہوں نے کونے میں پڑا ساگ کا گٹھڑ کھول کر چارپائی پر پھیلایا۔ بہت آوازیں دینے پر بھی مسرت ٹس سے مس نہ ہوئی تو ان کو تاؤ آگیا۔ لگی ہوگی سولہ سنگھار کرنے۔ ماں تو بکواس کرتی ہے۔ وہ غصے سے بڑبڑاتی اٹھیں اور خود ہی کچن سے مطلوبہ اشیاء لے آئیں۔ چاند سا مکھڑا۔۔۔ اترا ہے دل میں۔۔۔ گنگناتے ہوئے مسرت نے آخری بار آئینے میں اپنا جائزہ لیا اور باہرنکل آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

Saanson Ki Maala Pay (Iqra Sagheer Ahmad) / سانسوں کی مالا پہ از اقراء صغیر احمد
Iqra Sagheer Ahmed , Novels / May 17, 2019

Saanson Ki Maala Pay (Iqra Sagheer Ahmad) سانسوں کی مالا پہ از اقراء صغیر احمد نظر کے سامنے ایک راستہ ضروری ہے بھٹکتے رہنے کا بھی سلسلہ ضروری ہے تعلقات کے نام معتبر حوالوں میں تمام عمر کا اک رابطہ ضروری ہے اس کا دل خوف سے بری طرح دھڑ ک اٹھا تھا۔ مائی گاڈ! یہ میں کہاں آ گئی؟ لائٹ بھی چلی گئی ۔ اس نے بدحواسی سے ادھر ادھر دیکھا جہاں گہرا اندھیرا لوڈ شیڈنگ کے باعث چھا گیا تھا اور جو رخسار، رابیگار رخشی وغیرہ کے پاس سے اٹھ کر باہر کی طرف جارہی تھی معا راستوں سے واقفیت نہ ہونے کے باعث اس حصے میں آ گئی تھی جس کی خوف ناک کہانیاں آج ہی را بیکا نے سنائی تھیں اور جن کو سن کر وہ دل میں تہیہ کر چکی تھی کہ کبھی غلطی سے بھی وہ انیکسی کی طرف نہیں جائے گی۔۔۔۔۔ اور اسے قسمت کا مذاق کہیں یا تقدیر کی ستم ظریفی وہ اندھیرے کے باعث انیکسی کے اردگرد پھیلے جھاڑ جھنکار بنے اجڑے لان میں کھڑی تھی۔ چند قدم کے فاصلے پر کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا مگر گہرے اندھیرے کی وجہ سے کچھ نمایاں نہ تھا ایک خاموشی تھی جو…

Tumharay Bin Adhooray Hain (Sabas Gull) / تمھارے بن ادھورے ہیں از سباس گُل
Novels , Sabas Gul / May 16, 2019

Tumharay Bin Adhooray Hain (Sabas Gull) تمھارے بن ادھورے ہیں از سباس گُل حرف گل دنیا فانی ہے۔ آسان فانی ہے۔ زمین پر موجود ہر شے فانی ہے۔ زوال اور اختتام اس کا نصیب ہے۔ کمال اور لازوال تو ربِ ذوالجلال ہے جو اس کائنات کا خالق، اس دنیا کا مالک اور اس عالم دو جہاں کا مصور ہے۔ لاکھوں کروڑوں شکر اُس پاک ذات کا جس نے ہمیں قلم پکڑنا، لکھنا اور پڑھنا سکھایا۔ علم سیکھو تو سکھانے والے کے احسان کو مت بھولو نعمتیں پاؤ تو عطا کرنے والے کے لیے شکر کے سجدے لازم کر لو کہ یہی زندگی کا حسن اور تقاضا ہے۔ “تمہارے بِن ادھورے ہیں” واقعی ہم اپنے رب کے فضل و کرم کے بن ادھورے ہیں۔ آج اگر ادبی حلقوں میں سباس گُل کے نام کی مہک محسوس کی جاتی ہے تو یہ سب ہمارے ربِ کریم کا فضل و کرم اور انعام ہے جس کا ہم جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے۔ محبت، مزاح، خلوص ہمارا مزاج ہے۔ دکھ سکھ، ہنسی خوشی، تُندی نرمی زندگی کا مزاج ہے۔ لالچ، بدلہ، غرض، انتقام بےحسی معاشرے کا مزاج ہے۔ کبھی خوشی، کبھی غم، آزمائش، سزا، ثواب، عذاب یہ سب انسانی اعمال کے…

Maah-e-Taban (Mubashra Ansari) / ماہِ تاباں از مُبشرہ انصاری
Mubashra Ansari , Novels / May 15, 2019

Maah-e-Taban (Mubashra Ansari) ماہِ تاباں از مُبشرہ انصاری پیش لفظ…………. خاموشی ایک چیختی چلاتی ، شور مچاتی زبان ہے……. خاموشی لتاڑتی بھی ہے……. لڑکی خاموش رہے تو ناراض، لڑکا خاموش رہے تو بزدلی۔ والدین خاموش رہیں تو مجبوری…………اولاد خاموش رہے تو سعادت مندی………. انسان خاموش رہے تو بے بسی، انسانیت خاموش رہے تو بے حسی……. قوم خاموش رہے تو مظلومیت اور حکمران خاموش رہے تو سیاست…………. یہ خاموشی سکہ رائج الوقت ہے۔ جب بھی پرانی ہو جاتی ہے تو کسی کو خرید لیتی ہے یا پھرکسی کو بیچ دیتی ہے۔ لیکن…. یہ ہمیشہ رائج نہیں رہتی…… خاص موقعے اور خاص وقت پر استعمال کی جاتی ہے۔ اسی لئے تو کم بولنے اور زیادہ سننے والوں کو عقلمند کہا جاتا ہے……… جو لفظ ہیں ناں، یہ بہت شور کرتے ہیں  انہیں قید کرنا پڑتاہے، قید میں سنورتے ہیں میں حساس الطبع ہوں اور ہر بات کو گہرائی کے ساتھ محسوس کرنے کی عادی ہوں……. کہتے ہیں کہ گہرا ہونے کیلئے گہری چوٹیں کھانی پڑتی ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت چوٹیں کھائی ہیں…….. لیکن ہمیشہ خاموش رہی ہوں……. میر اماننا ہے کہ شکوہ شکایت کر دینے اور گالی گلوچ کر دینے سے ہمارے زخم نہیں بھرتے……. وقت گزرنے کے ساتھ…

Aik Jazeerah Khawabon Ka (Mubashra Ansari) / ایک جزیرہ خوابوں کا از مُبشرہ انصاری
Mubashra Ansari , Novels / May 11, 2019

Aik Jazeerah Khawabon Ka (Mubashra Ansari) ایک جزیرہ خوابوں کا از مُبشرہ انصاری پیش لفظ ۔۔۔۔ زندگی کے چمن کی رونق وہ خوبصورت، خوش لباس، خوش گفتاراورخوشبودار انسان ہوتے ہیں جو عمر کے مختلف ادوار میں اپنے اپنے وجود سے تعلقات کی رنگین شمعیں روشن کرتے ہیں۔ اور جذبات کی قوس قزاح سجاتے ہیں……….. زندگی کے طویل سفر میں اگر کوئی ہمدم اور ہمدرد، ہمسفر نہ ہوتو راہ بہت کٹھن ہو جاتی ہے……. پرخلوص اور چاہنے والے ہمراہی کے ساتھ راه گزر، زمین پر اتری ہوئی کہکشاں لگتی ہے جس پر چل کر خوبصورت اور چاہت کی منزلیں آسان ہو جاتی ہیں…….. تم ہمسفر ہوئے تو ہوئی زندگی عزیز ورنہ تو ہم میں جینے کا یہ حوصلہ نہ تھا  میں ایک عام گھریلولڑکی ہوں لیکن یہ کہ حساس الطبع ہوں اور ہر بات کو گہرائی کے ساتھ محسوس کرنے کی عادی ہوں…….. میری زندگی شروع سے ہی ہنگامہ خیز زندگی رہی ہے…….. مجھے اس ہنگامہ خیز زندگی سے جہاں لطف اندوز ہونے کا موقع ملا وہاں بعض ایسے مراحل اور مقامات بھی آئے کہ مجھے بے انتہا ذہنی دباؤ اور ٹینشن کا سامنا کرنا پڑا…….. لیکن میں کم ہمت لوگوں کی طرح درد کی اذیت میں کھوئے رہنے کے بجائے…

Aabroo (Mubashra Ansari) / آبرو از مُبشرہ انصاری
Mubashra Ansari , Novels / May 10, 2019

Aabroo (Mubashra Ansari) آبرو از مُبشرہ انصاری پیشِ لفظ ابتداء ہے اس رب جلیل کے بابرکت نام سے، جو ہر ابتداء کی ابتداء سے ہے اور جس کی کوئی ابتداء ہی نہیں………… اور جو ہر انتہا کی انتہا تک ہے، اور جس کی کوئی انتہا ہی نہیں…. جو لوگ اللہ کے گھر کو اپنی عبادتوں سے آباد رکھتے ہیں ……….. اللہ ان کے گھروں کو اپنی رحمتوں سے آباد رکھتا ہے…….. میرے اعمال اس قابل نہیں کہ میں جنت مانگوں ….. اے اللہ! بس اتنی سی عرض ہے کہ  مجھے جہنم سے بچانا …… (آمین ثم آمین) درس گاہوں کے نصابوں اور کتابوں کی قابلیت علم تو دے سکتی ہے مگر عملی تجربات کا امتحان پاس نہیں کراسکتی……….. بزرگوں کا تجربہ جو دنیائے درس گاہ میں زندگی کے نصاب سے ملتا ہے، وہ دنیا کی کسی کتاب میں نہیں ملتا…………. یہ کتاب صرف وقت کے قلم سے عمر کے صفحات پر بڑی محنت سے لکھی جاتی ہے۔۔۔ حضرت علی کا قول ہے: “بارش کا قطرہ سیپی اور سانپ دونوں کے منہ میں گرتا ہے……… سانپ اسے زہر بنا دیتا ہے اور سیپی اسے موتی……… جس کا جیساظرف، ویسی ہی اس کی تخلیق!” بنا درد کے آنسو بہائے نہیں جاتے بنا…

Baawri Piya Ki (Mubashra Ansari) / باوری پِیا کی از مُبشرہ انصاری
Mubashra Ansari , Novels / May 9, 2019

Baawri Piya Ki (Mubashra Ansari) باوری پِیا کی از مُبشرہ انصاری پیش لفظ! محبت کہنے میں پڑھنے میں اور سننے میں بظاہر چار حرفی لفظ ہے۔ مگر اس ایک لفظ میں اک جہاں بسا ہوا ہے۔ اس جہاں میں ستم کی لال آندھیاں بھی ہیں اور دلی سکون پہنچاتی ہوائیں بھی۔۔۔۔ کہیں غموں کی پھوار ہے تو کہیں خوشیوں کی برسات ہے… کہیں خاموشیوں کی صدائیں ہیں تو کہیں گنگناتی ہوائیں ہیں…. اس ایک لفظ میں بہت کچھ پوشیدہ ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس ایک لفظ کے سمندر میں ہمارے لئے کیا سبق پوشیدہ ہے ہم تو بس اس ایک لفظ سے متاثر ہو کر آنکھیں موندے کامل یقین سے اس محبت کے سمندر میں غوطہ لگا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر کیا حاصل اور کیا لاحاصل………..؟ محبت مہربان ہو جائے تو ہر موسم بہار کا موسم لگتا ہے۔ اور اگر محبت بے مروت نکلے تو انسان اس قدر ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے کہ ان ٹوٹے ٹکڑوں کے آر پار سے ہماری گھائل روح تک دیکھائی دینے لگتی ہے… اور یہ روح صرف اسی کو دیکھائی دیتی ہے جو صاحب نظر ہو…………. جوزِی حس ہو………. خاموش چهره، خاموش لفظ کی طرح صاحب نظر انسان کے سامنے بولتا ہے۔ خاموشی خود گویائی…

Bas Tujh Ko Paana Hai (Mubashra Ansari) / بس تُجھ کو پانا ہے از مُبشرہ انصاری
Mubashra Ansari , Novels / May 8, 2019

Bas Tujh Ko Paana Hai (Mubashra Ansari) بس تُجھ کو پانا ہے از مُبشرہ انصاری پیشِ لفظ بس تجھ کو پانا ہے میرا پہلا مکمل ناول ہے۔ اس سے ملنے والے فیڈ بیک سے میرا حوصلہ بڑھا اور میرے تمام افسانے’’ماں تجھے سلام“، “دلِ زار”، “گلِ تر“ اور ”تو کہاں آ گئی زندگی‘‘ ایک کے بعد ایک نے شائع ہو کر قارئین کے دلوں میں میری جگہ مضبوط کی اور مجھے پیہچان کے اس مقام تک پہنچایا جس کے لیے میں اپنے تمام چاہنے والوں کی دل سے مشکور ہوں۔ یہ دنیا گناہوں کے مرض میں اس قدر مُبتلا ہے کہ کسی کو اپنی موت تک یاد نہیں۔ یہ دنیا ایک کمرہ امتحان ہے اور ہم سب یہاں اپنی پیدائش سے موت تک مختلف قسم کے ٹیسٹ دینے کے لیے آئے ہیں ۔ ہم پیپر کیسے بھی دیں، ان کا چیکر صرف اور صرف الله تعالی ہے۔ اگر یہ بات تمام انسان اپنے دل ودماغ میں بٹھالیں تو میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی انسان گناہ کی دہلیز پار کر پائے گا۔ گناہوں کے مرض کی صرف اور صرف ایک ہی دوا ہے وہ یہ کہ حیا کے پھول، صبرشکرکے پھل، عجزونیاز کی جڑ، غم کی کونپل، سچائی کے درخت…

Saari Bhool Hamari Thi (Rahat Jabeen) / ساری بُھول ہماری تھی از رحت جبیں
Novels , Rahat Jabeen / May 7, 2019

Saari Bhool Hamari Thi (Rahat Jabeen) ساری بُھول ہماری تھی از رحت جبیں پیش لفظ  سنو! تم میری ماما سے کہہ سکتی ہو کہ میں کل تمہارے ساتھ تمہارے گھر گئی تھی۔ میں نے سراٹھا کراُن نوخیز چہروں کے عقب کی کہانی کھوجنے کی سعی کی۔ کیوں؟ “میری کزن نے کل مجھے “اُس” کے ساتھ دیکھ لیا تھا۔” میں ساکت سی رہ گئی۔ میں انہیں روکنا چاہتی تھی۔ انہیں بتانا چاہتی تھی کہ “اے نوخیز تتلیو! یہیں رک جاؤ۔ ورنہ تمہارے پرجل جائیں گے۔۔۔ کہکشاں سمجھ کر جس رستے پر قدم رکھا ہے۔۔۔ وہاں پاؤں فگار ہوتے ہیں۔ وہ مجھ سے دور جا چکی تھیں اور میں آنکھوں میں آئی دھند کے پار سفید یونیفارم میں موجود لڑکیوں کو دیکھ رہی ہوں۔۔۔ میرا ماضی میرا ہاتھ پکڑ کر مسکرارہا ہے۔ جہاں میں اور فاخرہ اپنے اپنے بیگ کندھوں پر لٹکائے، فائل ہاتھوں میں پڑے اپنے نئے نئے جوگرز کو دیکھ رہی تھیں۔ آج کالج میں پہلا دن تھا۔۔۔ “امی السلام علیکم! ابائی السلام علیکم” اورابائی کا ہاتھ ہم دونوں کے سروں پر باری باری ٹھہرا۔ (تب وہ ہاتھ اتنا بوڑھا نہیں تھا۔) “بیٹا! سیدھے کالج جانا اور سیدھے گھر آنا ہے۔“ اس ایک جملے کی نصیحت نے ہمارے گرد حدود…

Amaanat (Riffat Siraj) / امانت از رفعت سراج
Novels , Riffat Siraj / March 12, 2019

Amaanat (Riffat Siraj) امانت از رفعت سراج دل کی بات ہم نے اس بار امانت کو آسمانوں، زمین، پہاڑوں کے سامنے پیش کیا، وہ یہ بوجھ اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوئے، ڈر گئے مگر انسان نے اٹھالیا۔ بے شک انسان ظالم اور جاہل ہے (سورۃ الاحزاب، آیت 72) کوئی بھی ہنر مند ہو، وہ فطرت سے سچائی اور صداقت پر مبنی تعلقات استوار کئے بغیر تخلیقی عمل میں شفافیت کا اعجاز حاصل نہیں کر پاتا، اور دنیا کی سب سے عظیم صداقت وصدائے فطرت صرف اور صرف ”کتاب الفرقان“ ہے جو اندھیرے اور جانے کا فرق موثر ترین استدلال سے بیان کرتی ہے۔”کتاب المبین“ کا موضوع ”انسان“ہے۔ وہ کسی خاص صنف کو ذکر نہیں کرتا۔ قرآن کا موضوع ”انسان“ ہے۔  جب انسان اپنے ہونے سے پہلے نا قابل تذکرہ شۓ تھا، انسان ہونے کے بعد تمام تخلیقات میں اشرف قرار پایا، اشرف ہوا تو بات کرنے کے لائق بھی گردانا گیا۔ جب ذکر چل پڑا تو اس سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات، حادثات، عمل، ردعمل، رویے، کزوریاں، مجبوریاں، رفعتیں، عظمتیں سب ہی کچھ موضوع بنا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے، جب آدم (علیہ السلام) کا پتلا تخلیق ہوا تو فرشتوں سے کہا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کو…

Ae Waqt Gawahi Dey (Rahat Jabeen) / اے وقت گواہی دے از راحت جبیں
Novels , Rahat Jabeen / March 12, 2019

Ae Waqt Gawahi Dey (Rahat Jabeen) اے وقت گواہی دے از راحت جبیں اے وقت گواهی دے پریویس کی کلاسز شروع ہونے کے دن سے لے کر آج تک وہ دیکھ رہی تھی کہ وہ نوجوان مسلسل اس کا پیچھا کر رہا تھا ۔ شروع میں تو زارا عمیر نے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی کہ یونیورسٹی تھی جہاں تعلیم کے لیے سنجیدہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ان جیسوں کی بھی کمی نہ تھی، جن کا مقصد محض وقت گزاری کے لیے جامعہ کا ماحول خراب کرنا تھا۔ مگر اب اتنے دن گزر جانے کے بعد وہ اسے نظر انداز نہیں کرسکتی تھی، سو لاشعوری طور پر اس کی نگاہیں اپنے اردگرد اسے تلاش کرنے لگتیں اور زارا عمیر کو بھی کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئی تھی ۔ وہ ہمیشہ اس کے آس پاس ہی موجود ہوتا۔ لائبریری میں عین سامنے والی ٹیبل پر، ڈیپارٹمنٹ کے باغیچے میں پڑے بنچ پر، سیمینار روم میں اس کے عقب والی سیٹ پر اور کیفے ٹیریا میں وہ ہمیشہ اس سے پہلے ہی موجود ہوتا۔ حالانکہ اس نے زارا سے بھی کچھ نہ کہا تھا۔ مگر زارا کو اس کا ٹکٹکی باندھ دکر دیکھنا نا گوار گزرتا، ایک الجھن کا…