Naan’Baai Ki Beti (Aneeza Sayyed) / نان بائی کی بیٹی از عنیزہ سید

May 26, 2019
Naan’Baai Ki Beti (Aneeza Sayyed)

نان بائی کی بیٹی از عنیزہ سید
پیش لفظ
مجھے کہانیاں لکھتے ستائیس سال ہو چلے، اور ان ستائیس سالوں کے طویل سفر میں، میں نے جو کہانیاں، افسانے، ناولٹ اور ناول لکھے ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں تو بہت کم بھی نہیں ۔ لکھنے کے معاملے میں، مَیں انسپائریشن کی شدت سے قائل ہوں۔ جب تک کوئی موضوع ، کوئی واقعہ شخصیت یا منظر مجھے اس حد تک انسپائر نہ کرے کہ اس پر قلم اٹھانے کو میری روح بے چین ہو جائے میں کہانی نہیں لکھ سکتی۔ موضوعات کا تنوع ، وہ دوسری چیز ہے جو کہانی لکھنے کے معاملے میں میری دوسری ترجیح ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف پہلو ہی کہانی کاری کی تاریخ میں کہانی کاری کا باعث بنتے رہے مگر اس تاریخ کے آغاز سے اب تک کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ قلم کار کے قلم کا موضوع کو “ٹریٹ” کرنے کا طریقہ کار ہی وہ فرق ہے جو ایک کو دوسرے سے منفرد کرتا ہے۔ گویا موضوع تو وہ ہی گنے چنے مگر ان کا ٹریٹمنٹ مختلف رہا۔
یہاں موضوعات کے تنوع سے میری مراد میری ایک کہانی کے موضوع کا دوسری کے موضوع سے منفرد ہونا ہے۔ میری ہمیشہ ہی شعوری کوشش رہی ہے کہ میری ہرنئی آنے والی کہانی کا موضوع پچھلی سے مختلف ہو۔ ہاں ایک مخصوص طرزفکر، ہر کہانی کار کے لاشعور میں ہمیشہ چھپا بیٹھا رہتا ہے یہ ہی طرز فکر اس کی ہر کہانی کے پس منظر اور پیش منظر پر حاوی رہتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہانی کے مستقل قاری کو اگر مختلف مصنفین کی کہانیوں کا مجموعہ تھما دیا جائے تو وہ یقینا اس مجموعے کے صفے الٹتے پلٹتے ہوئے ہر کہانی کی چند سطریں پڑھ کر ہی جان لے گا کہ وہ کس کی کہانی ہوسکتی ہے۔ یہی طرز فکر، کہانی کار کی پہچان ہوتا ہے۔ یہ ہی اس کی حیثیت بھی ہوتا ہے اور اس کا میدان بھی۔ میری کہانیوں کے مستقل قاری کو میری کہانی پر تجسس، تلاش اور سفر کا رنگ نمایاں نظر آتا ہوگا۔ یہ ہی میرا طرزِ فکر ہے۔ یہی میری پہچان، حیثیت اور میدان بھی ہے۔
زیر نظر مجموعه “نان بائی کی بیٹی” میں میرے چارطویل ناولٹ شامل ہیں۔ ان میں سے تین ناولٹ میرے قلمی سفر کے ابتدائی اور وسطی دور میں لکھے گئے اور ایک ناولٹ نان بائی کی بیٹی 2013ء میں، مَیں نے لکھا۔ ایک لحاظ سے یہ مجموعہ میرے علمی سفر کے مختلف ادوار کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
 

No Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *