Marg-e-Barg (Tanzeela Riaz) / مرگِ برگ از تنزیلہ ریاض

May 24, 2019
Marg-e-Barg (Tanzeela Riaz)

مرگِ برگ از تنزیلہ ریاض
فہرست
مرگِ برگ
دشتِ ظلمت میں
مُحبت رنگ لاتی ہے
عشق گزیدہ
مرگِ برگ
ڈرامہ ختم ہوتے ہی پورا ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا تھا۔ پچھلی نشستوں کے عین اوپر نصب بڑے بڑے بلب روشن ہونا شروع ہوئے ۔ تاریکی بہت سرعت سے روشنی کا لبادہ اوڑھ کر اجالے کا روپ دھارنے لگی تھی۔ لمحہ بھر میں تمام ہال روشنی کی تیز پھوار سے بھیگ چکا تھا۔ اسٹیج پر لگا بھاری سرخ پرده تیزی سے برابر ہونے لگا۔ تالیوں کی گونج دھیرے دھیرے دم توڑنے لگی۔ لوگ ایک کے بعد ایک گرتے پڑتے، ہنستے گاتے ایک دوسرے کو دھکا دیتے اس دروازے کی سمت بڑھنے لگے، جہاں Exit لکھا تھا۔ ہال آہستہ آہستہ خالی ہونے لگا اور ایسے میں دو بھوری بے حِس آنکھیں ابھی بھی ٹکٹکی باندھے سامنے کی جانب دیکھنے میں مگن تھیں۔ ان آنکھوں میں نیلگوں شعلوں کی لپک دور سے بھی محسوس کی جاسکتی تھی۔
روشنیاں جل چکی تھیں۔ ہال خالی ہو چکا تھا۔ پردہ برابر ہو چکا تھا اور ڈرامہ ختم ہو چکا تھا۔
یہ کہانی وہاں سے شروع ہوئی جہاں ڈرامہ ختم ہوا تھا۔

No Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *