Saanson Ki Maala Pay (Iqra Sagheer Ahmad) / سانسوں کی مالا پہ از اقراء صغیر احمد

May 17, 2019
Saanson Ki Maala Pay (Iqra Sagheer Ahmad)

سانسوں کی مالا پہ از اقراء صغیر احمد
نظر کے سامنے ایک راستہ ضروری ہے
بھٹکتے رہنے کا بھی سلسلہ ضروری ہے
تعلقات کے نام معتبر حوالوں میں
تمام عمر کا اک رابطہ ضروری ہے
اس کا دل خوف سے بری طرح دھڑ ک اٹھا تھا۔
مائی گاڈ! یہ میں کہاں آ گئی؟ لائٹ بھی چلی گئی ۔ اس نے بدحواسی سے ادھر ادھر دیکھا جہاں گہرا اندھیرا لوڈ شیڈنگ کے باعث چھا گیا تھا اور جو رخسار، رابیگار رخشی وغیرہ کے پاس سے اٹھ کر باہر کی طرف جارہی تھی معا راستوں سے واقفیت نہ ہونے کے باعث اس حصے میں آ گئی تھی جس کی خوف ناک کہانیاں آج ہی را بیکا نے سنائی تھیں اور جن کو سن کر وہ دل میں تہیہ کر چکی تھی کہ کبھی غلطی سے بھی وہ انیکسی کی طرف نہیں جائے گی۔۔۔۔۔ اور اسے قسمت کا مذاق کہیں یا تقدیر کی ستم ظریفی وہ اندھیرے کے باعث انیکسی کے اردگرد پھیلے جھاڑ جھنکار بنے اجڑے لان میں کھڑی تھی۔
چند قدم کے فاصلے پر کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا مگر گہرے اندھیرے کی وجہ سے کچھ نمایاں نہ تھا ایک خاموشی تھی جو کسی کے نہ ہونے کی گواہی دے رہی تھی۔ وہ چند لمحے ساکت کھڑی اس کی غیر موجودگی کی سن گن لیتی رہی اور یقین ہونے کے بعد دبے دبے قدموں سے آگے بڑھتی تھی اور تیسرے قدم پر ہی کسی شے سے الجھ کر گری تھی۔ بے اختیار چیخ اس کے حلق سے برآمد ہو کر خاموشی کو چیرتی چلی گئی۔
“کون ہے…؟” مردانہ بھاری آواز کمرے کے کسی خفیہ حصے سے برآمد ہوئی تھی۔ وہ جو بے اوسان گری تھی کسی نوکیلے پتھر کی چوٹ سے تڑپ اٹھی اندر سے برآمد ہونے والی سردمہروسپاٹ آواز اس کے خوف کو بڑھانے کے لیے کافی تھی۔ اندر سے قدموں کی آہٹیں ابھرنے لگی، ساتھ ہی اندرونی کسی دروازے کی چڑچڑاہٹ کی واضح آواز آئی تھی۔ وہ ساری طاقت بمشکل یکجا کر کے اٹھ کھڑی ہوئی، دل کی دھڑکنیں مارے دہشت کے بپھری ہوئی تھیں اور سماعتوں میں کچھ دیر قبل کی باتیں گونج رہی تھی۔
“ہماری یہ باتیں ہمیشہ یادرکھنا ڈیئر! کبھی بھول کر بھی انیکسی میں نہ جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

No Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *