Maah-e-Taban (Mubashra Ansari) / ماہِ تاباں از مُبشرہ انصاری

May 15, 2019
Maah-e-Taban (Mubashra Ansari)

ماہِ تاباں از مُبشرہ انصاری
پیش لفظ………….
خاموشی ایک چیختی چلاتی ، شور مچاتی زبان ہے……. خاموشی لتاڑتی بھی ہے……. لڑکی خاموش رہے تو ناراض، لڑکا خاموش رہے تو بزدلی۔ والدین خاموش رہیں تو مجبوری…………اولاد خاموش رہے تو سعادت مندی………. انسان خاموش رہے تو بے بسی، انسانیت خاموش رہے تو بے حسی……. قوم خاموش رہے تو مظلومیت اور حکمران خاموش رہے تو سیاست…………. یہ خاموشی سکہ رائج الوقت ہے۔ جب بھی پرانی ہو جاتی ہے تو کسی کو خرید لیتی ہے یا پھرکسی کو بیچ دیتی ہے۔ لیکن…. یہ ہمیشہ رائج نہیں رہتی…… خاص موقعے اور خاص وقت پر استعمال کی جاتی ہے۔ اسی لئے تو کم بولنے اور زیادہ سننے والوں کو عقلمند کہا جاتا ہے………
جو لفظ ہیں ناں،
یہ بہت شور کرتے ہیں
 انہیں قید کرنا پڑتاہے،
قید میں سنورتے ہیں
میں حساس الطبع ہوں اور ہر بات کو گہرائی کے ساتھ محسوس کرنے کی عادی ہوں……. کہتے ہیں کہ گہرا ہونے کیلئے گہری چوٹیں کھانی پڑتی ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت چوٹیں کھائی ہیں…….. لیکن ہمیشہ خاموش رہی ہوں……. میر اماننا ہے کہ شکوہ شکایت کر دینے اور گالی گلوچ کر دینے سے ہمارے زخم نہیں بھرتے……. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھرتے رہتے ہیں…………خاموشی بہترین علاج ہے۔ بہترین دوست…….. خاموشی میں بہت سے راز پنہاں ہیں… اور یہ راز اسی کے سامنے افشاں ہوتے ہیں جو خاموشی کو سمجھ پاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ خاموشیاں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ اگر ذہن بھی کچھ سوچےتو شور ہوتا ہے…………..
میرے ہاتھوں میں قدرت نے ہنر ایسا بخشا ہے
کبھی پاکر بناتی ہوں، بھی کھو کر بناتی ہوں
میں جب بھی ٹوٹ جاتی ہوں، کسی سے کچھ نہیں کہتی
میں چکنار چور ہو کر بھی نئے منظر سجاتی ہوں!
اس خاموشی نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے……. بہت کچھ دان کیا ہے……. تبھی تو احساسات وخیالات کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر میرے دل میں موجزن رہتا ہے……….. لہذا میں انہیں کورے کینوسز پر رنگوں کی مدد کے ذریعہ اور صفحہ قرطاس پر قلم کی روشنائی کی مدد کے ذریعہ منتقل کرنے پر مجبور ہو جاتی ہوں …………..
میں اپنے قارئین کی مشکور ہوں کہ انہوں نے میرے لکھے گئے تمام ناولز کو پڑھا، پسند کیا اور مجھے پہچان کے اس مقام تک پہنچایا …… ساتھ ہی میں ملک کے معروف وممتاز ادارہ “علم و عرفان پبلشرز” کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے میرے پچھلے تمام ناولز کو کتابی شکل دیکر میرے تمام قارئین تک میرے دل کی آواز پہنچائی…. اور اب میری اس نئی کتاب “ماه تاباں” جو کہ ایک مکمل ناول اور دوناولٹس کا مجموعہ ہے کوبھی پبلش کرنے کا اہتمام کر رہے ہیں………..
امید کرتی ہوں کہ تمام قارئین میری گزشتہ تمام کتب کی طرح، اس نئی کتاب کو بھی ضرور سراہیں گے…….
میری تمام تصانیف میں اصلاح کا پہلو موجودرہا ہے……. میں نے صرف اسی شوق میں قلم اٹھایا ہے کہ شاید میری تحریر، جملے یا لفظ کو پڑھ کر کوئی بھٹکا ہوا راہ راست پر آجائے اور اللہ تعالی مجھے ناچیز کو بخش کر اپنی خوبصورت جنت کا نظارہ کرادیں۔ اجازت چاہتی ہوں اس بات کے ساتھ کہ اپنی امیدوں کو زندہ رکھیں، اللہ پر کامل یقین رکھیں۔ ہماری ہر اک سانس اسی کی دی ہوئی ہے….وہ ہر چیز قادر ہے………. الله کا ذکر وقتا فوقتا کرتے رہا کریں……. کیونکہ اللہ کو اپنی تعریف بہت پسند ہے۔ یہی راه معرفت ہے اور یہی راہ نجات……….
دعاؤں میں یادرکھئے گا………..اللہ نگہبان۔
وقت انسان کو سکھا دیتا ہے عجب عجب چیزیں
پھرکیا نصیب، کیا مقدر، کیا ہاتھ کی لکیریں
طالب دعا
مبشرہ انصاری
 

No Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *