Aik Jazeerah Khawabon Ka (Mubashra Ansari) / ایک جزیرہ خوابوں کا از مُبشرہ انصاری

May 11, 2019
Aik Jazeerah Khawabon Ka (Mubashra Ansari)

ایک جزیرہ خوابوں کا از مُبشرہ انصاری
پیش لفظ ۔۔۔۔
زندگی کے چمن کی رونق وہ خوبصورت، خوش لباس، خوش گفتاراورخوشبودار انسان ہوتے ہیں جو عمر کے مختلف ادوار میں اپنے اپنے وجود سے تعلقات کی رنگین شمعیں روشن کرتے ہیں۔ اور جذبات کی قوس قزاح سجاتے ہیں……….. زندگی کے طویل سفر میں اگر کوئی ہمدم اور ہمدرد، ہمسفر نہ ہوتو راہ بہت کٹھن ہو جاتی ہے……. پرخلوص اور چاہنے والے ہمراہی کے ساتھ راه گزر، زمین پر اتری ہوئی کہکشاں لگتی ہے جس پر چل کر خوبصورت اور چاہت کی منزلیں آسان ہو جاتی ہیں……..
تم ہمسفر ہوئے تو ہوئی زندگی عزیز
ورنہ تو ہم میں جینے کا یہ حوصلہ نہ تھا
 میں ایک عام گھریلولڑکی ہوں لیکن یہ کہ حساس الطبع ہوں اور ہر بات کو گہرائی کے ساتھ محسوس کرنے کی عادی ہوں…….. میری زندگی شروع سے ہی ہنگامہ خیز زندگی رہی ہے…….. مجھے اس ہنگامہ خیز زندگی سے جہاں لطف اندوز ہونے کا موقع ملا وہاں بعض ایسے مراحل اور مقامات بھی آئے کہ مجھے بے انتہا ذہنی دباؤ اور ٹینشن کا سامنا کرنا پڑا…….. لیکن میں کم ہمت لوگوں کی طرح درد کی اذیت میں کھوئے رہنے کے بجائے اپنے درد کا علاج ڈھونڈ کر اس درد کی اذیت سے خود کو نجات دلا دیتی ہوں…. ذکرالہٰی اور صحبت الہٰی میرے درد کی دوا ہے…….. ذکر الہٰی اورصحبت الہٰی میں ایک ایسا مزہ ہے کہ یہ زندگی کی تمام تلخیوں کو یکسر بھلادیتا ہے…….. اب تو تمام ترآرزوؤں سے بڑی آرزو یہی ہے کہ مجھے الله تعالی کی شدید محبت مل جائے اور اسی پر زندگی کا خاتمہ ہو جائے………..
کیسی تسکین وابستہ ہے یارب! تیرے نام کے ساتھ
نیند کانٹوں پر بھی آجاتی ہے آرام کے ساتھ
چونکہ احساسات و خیالات کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر میرے دل میں موجزن رہتا ہے، لہذا میں انہیں کورے کینوسز پررنگوں کی مدد کے ذریہ اورصفحہ قرطاس پر قلم کی سیاہی کی مدد کے ذریعہ منتقِل کرنے پر مجبور ہو جاتی ہوں………..
یوں تو مصورہ ہونے کے ناطے میں نے اپنے دل میں قید ڈھیروں کہانیاں اپنی پینٹنگز کے ذریعہ کہہ ڈالی ہیں لیکن صحفہ قرطاس پرقلم کے ذریعہ منتقل کیے گئے ابھی تک میرے تین مکمل ناول، دو ناولٹ اور تین افسانے منظر عام پر آچکے ہیں۔ ایک کے بعد ایک میری ان تمام کہانیوں نے شائع ہو کر قارئین کے دل میں میری جگہ مضبوط کی اور مجھے پہچان کے اس مقام تک پہنچایا……. میں اپنے تمام قارئین کی دل سے مشکور ہیں کہ انہوں نے میری اتنی حوصلہ افزائی کی اور مجھے اس قدر عزت بخشی……. اور ساتھ ہی ساتھ میں ملک کے معروف وممتاز ادارہ “علم وعرفان پبلشرز” کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے میرے تین ناولز (بس تجھ کو پانا ہے، آبرو، زندگی امتحان لیتی ہے) کو کتانی شکل دیکر میرے تمام قارئین تک میرے دل کی آواز پہنچائی…. اور اب میرے چوتھے ناول ‘‘ایک جزیرہ خوابوں کا‘‘ کو بھی کتابی شکل دیکر پیش کرنے کا اہتمام کر رہے ہیں.
“ایک جزیره خوابوں کا” کہانی ہے خوابوں کو جینے، نا امیدی میں امید کو زندہ رکھے، خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے، خوشیاں بانٹنے، اللہ پر کامل یقین اور دوسروں کے ساتھ خیر خواہی برتنے کی …………
دراصل دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کرنا بہت اچھی بات ہے۔ مگر یہ خیرخواہی اس حد تک اچھی لگتی ہے کہ بد خواہ اس سے فائدہ نہ اٹھائیں…. اور آپ خیر خواہی کرنے کے باوجود تباہی سے دوچار نہ ہو جا ئیں ……..آج کے اس دور میں زیادہ نیک کام کرنے والے زیادہ تر پریشان رہتے ہیں…. اور ان کی نیکیوں سے فائدہ اٹھانے والے فائدے میں رہتے ہیں…. یہی اب قوم کا مزاج بن گیا ہے اور لوگ اسی مزاج کی وجہ سے نیک کام کرنے سے ڈرتے ہیں……….. یہ اور بات ہے کہ اب بھی نیک لوگ باقی ہیں اور انہی نیک لوگوں اور نیک کام کر نے والوں کی تعداد میں اللہ تعالی وقتا فوقتا اضافہ کرتا رہتا ہے……….. انسان کی زندگی اگر خالق کی بندگی اور اس کی انسانیت خدمت کی تابندگی ہوتو، اس کی شخصیت عرفانیت کا برق و شرر لیے کردار کا روشن مینار بناتی ہے۔ جس کی روشنی میں اس کے تمام رشتہ دار اپنی اپنی زندگیوں کو منور کرتے ہیں اور انسان کے اشرف ہونے کو شرف بخشتے ہیں………..

No Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *