Sayaa-e-Deewar Bhi Nahi (Qaisra Hayat) / سایہ دیوار بھی نہیں از قیصرہ حیات
Uncategorized / May 27, 2019

Sayaa-e-Deewar Bhi Nahi (Qaisra Hayat) سایہ دیوار بھی نہیں از قیصرہ حیات دیباچہ یہ ناول پاکیزہ ڈائجسٹ میں شائع ہونے والا میرا پہلا ناول ہے جو عام روایتی ناولوں سے قدرے مختلف ہے کیونکہ اس میں کوئی بھی کردار مخصوص انداز میں ہیرو یا ہیروئن بن کر نمودار نہیں ہوا بلکہ یہ معاشرے کے ان چلتے پھرتے کرداروں کی کہانی ہے، جو اپنی اپنی سوچ کے مطابق زندگیاں گزارتے ہیں اور دنیا کی اسٹیج خالی کر کے چلے جاتے ہیں، جو سوچتے تو بہت کچھ ہیں مگر اس کے مطابق عمل نہیں کر سکتے۔ جو احساسات و جذبات تو رکھتے ہیں مگر بروقت ان کا اظہار نہیں کر پاتے۔ ایسے کردار ہمیں ہر معاشرے اور ہر طبقے میں ملتے ہیں جنھیں ہم بھی نظرانداز کر دیتے ہیں اور بعض اوقات نظر انداز کرنے کے باوجود بھی وہ ذہن سے محو نہیں ہو پاتے کیونکہ قدرت نے کہیں نہ کہیں ان میں کوئی انفرادیت ضرور رکھی ہوتی ہے اور یہ انفرادیت ہر کردار میں نہیں بلکہ بہت سے ایک جیسے کرداروں میں سے صرف چند ایک میں ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ بھلائے نہیں جاسکتے۔ بقول شیکسپیئر یہ دنیا ایک اسٹیج ہے جہاں ہر انسان اپنا کردار ادا کر…

Naan’Baai Ki Beti (Aneeza Sayyed) / نان بائی کی بیٹی از عنیزہ سید
Uncategorized / May 26, 2019

Naan’Baai Ki Beti (Aneeza Sayyed) نان بائی کی بیٹی از عنیزہ سید پیش لفظ مجھے کہانیاں لکھتے ستائیس سال ہو چلے، اور ان ستائیس سالوں کے طویل سفر میں، میں نے جو کہانیاں، افسانے، ناولٹ اور ناول لکھے ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں تو بہت کم بھی نہیں ۔ لکھنے کے معاملے میں، مَیں انسپائریشن کی شدت سے قائل ہوں۔ جب تک کوئی موضوع ، کوئی واقعہ شخصیت یا منظر مجھے اس حد تک انسپائر نہ کرے کہ اس پر قلم اٹھانے کو میری روح بے چین ہو جائے میں کہانی نہیں لکھ سکتی۔ موضوعات کا تنوع ، وہ دوسری چیز ہے جو کہانی لکھنے کے معاملے میں میری دوسری ترجیح ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف پہلو ہی کہانی کاری کی تاریخ میں کہانی کاری کا باعث بنتے رہے مگر اس تاریخ کے آغاز سے اب تک کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ قلم کار کے قلم کا موضوع کو “ٹریٹ” کرنے کا طریقہ کار ہی وہ فرق ہے جو ایک کو دوسرے سے منفرد کرتا ہے۔ گویا موضوع تو وہ ہی گنے چنے مگر ان کا ٹریٹمنٹ مختلف رہا۔ یہاں موضوعات کے تنوع سے میری مراد میری ایک کہانی کے موضوع کا دوسری کے موضوع سے…

Marg-e-Barg (Tanzeela Riaz) / مرگِ برگ از تنزیلہ ریاض
Uncategorized / May 24, 2019

Marg-e-Barg (Tanzeela Riaz) مرگِ برگ از تنزیلہ ریاض فہرست مرگِ برگ دشتِ ظلمت میں مُحبت رنگ لاتی ہے عشق گزیدہ مرگِ برگ ڈرامہ ختم ہوتے ہی پورا ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا تھا۔ پچھلی نشستوں کے عین اوپر نصب بڑے بڑے بلب روشن ہونا شروع ہوئے ۔ تاریکی بہت سرعت سے روشنی کا لبادہ اوڑھ کر اجالے کا روپ دھارنے لگی تھی۔ لمحہ بھر میں تمام ہال روشنی کی تیز پھوار سے بھیگ چکا تھا۔ اسٹیج پر لگا بھاری سرخ پرده تیزی سے برابر ہونے لگا۔ تالیوں کی گونج دھیرے دھیرے دم توڑنے لگی۔ لوگ ایک کے بعد ایک گرتے پڑتے، ہنستے گاتے ایک دوسرے کو دھکا دیتے اس دروازے کی سمت بڑھنے لگے، جہاں Exit لکھا تھا۔ ہال آہستہ آہستہ خالی ہونے لگا اور ایسے میں دو بھوری بے حِس آنکھیں ابھی بھی ٹکٹکی باندھے سامنے کی جانب دیکھنے میں مگن تھیں۔ ان آنکھوں میں نیلگوں شعلوں کی لپک دور سے بھی محسوس کی جاسکتی تھی۔ روشنیاں جل چکی تھیں۔ ہال خالی ہو چکا تھا۔ پردہ برابر ہو چکا تھا اور ڈرامہ ختم ہو چکا تھا۔ یہ کہانی وہاں سے شروع ہوئی جہاں ڈرامہ ختم ہوا تھا۔

Muhabbat Rabt Hai (Ushna Kausar Sardar) / محبت ربط ہے از عُشنا کوثر سردار
Uncategorized / May 21, 2019

Muhabbat Rabt Hai (Ushna Kausar Sardar) محبت ربط ہے از عُشنا کوثر سردار آئینہ پتیاں لکھاں شام نوں دل لوچے ماہی یار نوں میں محبت اور تم محبت ربط ہے کیکٹس کا پھول تارا تارا اُجلا کرن کوئی آرزو کی میں تیرا خالی کمرہ ہوں پتیاں لکھاں شام نوں کھڑکی سے لگی وہ بادل تکتی رہتی ہے  اس کے دل پرگرتی ہیں  وہ آنکھیں بند کر کے  اپنے اندر کی موسلا دھار بارش میں بھیگتی رہتی ہے! کتنی ہی دیر کھڑا، وہ بہت خاموشی کے ساتھ علما بخاری کودیکھتا رہا تھا۔ اس کی مخروطی انگلیاں بہت تیزی کے ساتھ کی بورڈ پر متحرک تھیں ۔ اس کی گہری سرمائی آنکھیں مونیٹر کی اسکرین پر تھیں۔ کتنی آس تھی ان آنکھوں میں اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر ایک شدید ترین پیاس ایک تھل سا پھیلا ہوا تھا یہاں سے وہاں تک بنجر اور ویراں تھل۔ پیاس سے بھرا ہوا صحرا۔ وہ جدید ترین دور کی لیلیٰ تھی، جبھی تو بھٹکتی پھر رہی تھی، میلوں تک پھیلے ہوئے ان صحراؤں میں۔ بلو جینز پر ڈھیلی ڈھالی سی بلیک شرٹ، شولڈر کٹ بالوں کو بہت رف سے انداز میں کلپ میں مقید کیے نکھرا ستھرا بے داغ چہرہ میک اپ سے…

Haalim; Episodes 1 – 21 (Nemrah Ahmed) / حالِم؛ باب 1 – 21 از نمرہ احمد
Uncategorized / May 18, 2019

Haalim; Episodes 1 – 21 (Nemrah Ahmed) حالِم؛ باب 1 – 21 از نمرہ احمد Download Link حالِم باب نمبر گدلے پانیوں کا سنگم 1 گھائل غزال 2 شکار باز 3 میراثِ پِدرِمَن 4 تین خزینوں کا مسکن 5 بازگشتِ دختر 6 تاشہ پَسونا 7 ہم قیدی وقت کے 8 جہاں ملتے ہیں تین چاند! 9 صنم تراش 10 وقت کے اُس پار 11 سُلطان ساز 12 وقت کے تین سوال 13 ملکہ بد 14 چناؤ 15 دوری نگارہ ملایو (ملایا کا کانٹا) 16 سات راتیں، چھے دن، پایچ خطوط 17 چور اور جاسوس 18 ساکوراہانامی 19 شہزادی کی آخری مانگ 20 اتوار۔ بائیس جنوری۔ جونکر اسٹریٹ۔ ملاکہ 21

Haalim; Episode 21 (Nemrah Ahmed) / حالِم؛ اکیسواں باب از نمرہ احمد
Uncategorized / May 18, 2019

Haalim; Episode 21 (Nemrah Ahmed) حالِم؛ اکیسواں باب از نمرہ احمد اکیسواں باب: ” اتوار۔ بائیس جنوری ۔ جوکر اسٹریٹ ملا کہ ۔ “ اتوارکی شام تھی۔  بائیس جنوری کی تاریخ تھی۔  اکیسویں صدی کی جو نکر اسٹریٹ سامنے تھی۔  اور یہ ملائیشیا کا شہر ملا کہ تھا۔ اس نے اپنے سامنے پھیلی جونکر اسٹریٹ پر چلتے لوگوں کو دیکھا تو یاد آیا کہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار وہ دن تھے جب اس اسٹریٹ کو پیدل چلنے والوں کی گزرگاہ بنایا جاتا تھا۔ سڑک کے کنارے اسٹالز اور بنچ لگ جاتے تھے۔ اور لوگ خریداری کرتے ہوئے کھاتے پیتے ہوئے آگے بڑھتے جاتے تھے۔ قدیم ملا کہ میں ایک ماہ گزارنے کے باعث اسے اس شور ہنگامے اور رونق کی عادت نہیں رہی تھی۔ ہر شے مختلف تھی۔ صرف تاریخ اور دن وہی تھا۔ اتوار با تیس جنوری کو ہ تینوں وقت میں پیچھے گئے تھے۔ پھر اسی تاریخ اور اسی دن میں اس کی “واپسی” ہوئی تھی۔ مگر یہ واپسی ویسی نہیں تھی جیسی اس نے چاہی تھی۔ یہ واپسی بہت سفاک تھی اور اس کا دل توڑگئی تھی۔ چند گھنٹے پہلے پیش آنے والے حالات کا صد ابھی تک اس کے حواسوں پر طاری تھا۔ اتنے شور میں…

Titliyaan, Phool aur Khushboo (Rahat Jabeen) / تتلیاں، پھول اور خوشبو از راحت جبیں
Uncategorized / May 18, 2019

Titliyaan, Phool aur Khushboo (Rahat Jabeen) تتلیاں، پھول اور خوشبو از راحت جبیں تتلیاں، پھول اور خوشبو  صاف ستھرے تازہ لپے لپائے وسیع وعریض صحن میں دھوپ تیزی سے پھیلی۔ اگرچہ ابھی صبح کاہی وقت تھا۔۔۔ مگر سورج سرپر آکھڑا ہوا۔ مسرت نہاکر نکلی اور لمبے بالوں کو تولیے میں لپیٹے اپنے کمرے میں گھس گئی۔ ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھلا اور جنت بی بی باہر نکلیں۔ دبلی پتلی، دھان پان ساوجود، صاف رنگت، ہر حرکت میں تیزی و پھرتیلاپن نمایاں تھا۔ انہوں نے دھوپ میں پڑی چارپائی گھسیٹ کر دیوار کے ساتھ کی۔ اس پر پرانی دھلی ہوئی چادر بچھائی، پھر کمرے کی طرف منہ کر کے آواز دی۔ “ستی او۔۔۔ ستی۔۔۔ ذرا مجھے پرات تو پکڑادے” انہوں نے کونے میں پڑا ساگ کا گٹھڑ کھول کر چارپائی پر پھیلایا۔ بہت آوازیں دینے پر بھی مسرت ٹس سے مس نہ ہوئی تو ان کو تاؤ آگیا۔ لگی ہوگی سولہ سنگھار کرنے۔ ماں تو بکواس کرتی ہے۔ وہ غصے سے بڑبڑاتی اٹھیں اور خود ہی کچن سے مطلوبہ اشیاء لے آئیں۔ چاند سا مکھڑا۔۔۔ اترا ہے دل میں۔۔۔ گنگناتے ہوئے مسرت نے آخری بار آئینے میں اپنا جائزہ لیا اور باہرنکل آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

Saanson Ki Maala Pay (Iqra Sagheer Ahmad) / سانسوں کی مالا پہ از اقراء صغیر احمد
Uncategorized / May 17, 2019

Saanson Ki Maala Pay (Iqra Sagheer Ahmad) سانسوں کی مالا پہ از اقراء صغیر احمد نظر کے سامنے ایک راستہ ضروری ہے بھٹکتے رہنے کا بھی سلسلہ ضروری ہے تعلقات کے نام معتبر حوالوں میں تمام عمر کا اک رابطہ ضروری ہے اس کا دل خوف سے بری طرح دھڑ ک اٹھا تھا۔ مائی گاڈ! یہ میں کہاں آ گئی؟ لائٹ بھی چلی گئی ۔ اس نے بدحواسی سے ادھر ادھر دیکھا جہاں گہرا اندھیرا لوڈ شیڈنگ کے باعث چھا گیا تھا اور جو رخسار، رابیگار رخشی وغیرہ کے پاس سے اٹھ کر باہر کی طرف جارہی تھی معا راستوں سے واقفیت نہ ہونے کے باعث اس حصے میں آ گئی تھی جس کی خوف ناک کہانیاں آج ہی را بیکا نے سنائی تھیں اور جن کو سن کر وہ دل میں تہیہ کر چکی تھی کہ کبھی غلطی سے بھی وہ انیکسی کی طرف نہیں جائے گی۔۔۔۔۔ اور اسے قسمت کا مذاق کہیں یا تقدیر کی ستم ظریفی وہ اندھیرے کے باعث انیکسی کے اردگرد پھیلے جھاڑ جھنکار بنے اجڑے لان میں کھڑی تھی۔ چند قدم کے فاصلے پر کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا مگر گہرے اندھیرے کی وجہ سے کچھ نمایاں نہ تھا ایک خاموشی تھی جو…

Tumharay Bin Adhooray Hain (Sabas Gull) / تمھارے بن ادھورے ہیں از سباس گُل
Uncategorized / May 16, 2019

Tumharay Bin Adhooray Hain (Sabas Gull) تمھارے بن ادھورے ہیں از سباس گُل حرف گل دنیا فانی ہے۔ آسان فانی ہے۔ زمین پر موجود ہر شے فانی ہے۔ زوال اور اختتام اس کا نصیب ہے۔ کمال اور لازوال تو ربِ ذوالجلال ہے جو اس کائنات کا خالق، اس دنیا کا مالک اور اس عالم دو جہاں کا مصور ہے۔ لاکھوں کروڑوں شکر اُس پاک ذات کا جس نے ہمیں قلم پکڑنا، لکھنا اور پڑھنا سکھایا۔ علم سیکھو تو سکھانے والے کے احسان کو مت بھولو نعمتیں پاؤ تو عطا کرنے والے کے لیے شکر کے سجدے لازم کر لو کہ یہی زندگی کا حسن اور تقاضا ہے۔ “تمہارے بِن ادھورے ہیں” واقعی ہم اپنے رب کے فضل و کرم کے بن ادھورے ہیں۔ آج اگر ادبی حلقوں میں سباس گُل کے نام کی مہک محسوس کی جاتی ہے تو یہ سب ہمارے ربِ کریم کا فضل و کرم اور انعام ہے جس کا ہم جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے۔ محبت، مزاح، خلوص ہمارا مزاج ہے۔ دکھ سکھ، ہنسی خوشی، تُندی نرمی زندگی کا مزاج ہے۔ لالچ، بدلہ، غرض، انتقام بےحسی معاشرے کا مزاج ہے۔ کبھی خوشی، کبھی غم، آزمائش، سزا، ثواب، عذاب یہ سب انسانی اعمال کے…

Maah-e-Taban (Mubashra Ansari) / ماہِ تاباں از مُبشرہ انصاری
Uncategorized / May 15, 2019

Maah-e-Taban (Mubashra Ansari) ماہِ تاباں از مُبشرہ انصاری پیش لفظ…………. خاموشی ایک چیختی چلاتی ، شور مچاتی زبان ہے……. خاموشی لتاڑتی بھی ہے……. لڑکی خاموش رہے تو ناراض، لڑکا خاموش رہے تو بزدلی۔ والدین خاموش رہیں تو مجبوری…………اولاد خاموش رہے تو سعادت مندی………. انسان خاموش رہے تو بے بسی، انسانیت خاموش رہے تو بے حسی……. قوم خاموش رہے تو مظلومیت اور حکمران خاموش رہے تو سیاست…………. یہ خاموشی سکہ رائج الوقت ہے۔ جب بھی پرانی ہو جاتی ہے تو کسی کو خرید لیتی ہے یا پھرکسی کو بیچ دیتی ہے۔ لیکن…. یہ ہمیشہ رائج نہیں رہتی…… خاص موقعے اور خاص وقت پر استعمال کی جاتی ہے۔ اسی لئے تو کم بولنے اور زیادہ سننے والوں کو عقلمند کہا جاتا ہے……… جو لفظ ہیں ناں، یہ بہت شور کرتے ہیں  انہیں قید کرنا پڑتاہے، قید میں سنورتے ہیں میں حساس الطبع ہوں اور ہر بات کو گہرائی کے ساتھ محسوس کرنے کی عادی ہوں……. کہتے ہیں کہ گہرا ہونے کیلئے گہری چوٹیں کھانی پڑتی ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت چوٹیں کھائی ہیں…….. لیکن ہمیشہ خاموش رہی ہوں……. میر اماننا ہے کہ شکوہ شکایت کر دینے اور گالی گلوچ کر دینے سے ہمارے زخم نہیں بھرتے……. وقت گزرنے کے ساتھ…

Aik Jazeerah Khawabon Ka (Mubashra Ansari) / ایک جزیرہ خوابوں کا از مُبشرہ انصاری
Uncategorized / May 11, 2019

Aik Jazeerah Khawabon Ka (Mubashra Ansari) ایک جزیرہ خوابوں کا از مُبشرہ انصاری پیش لفظ ۔۔۔۔ زندگی کے چمن کی رونق وہ خوبصورت، خوش لباس، خوش گفتاراورخوشبودار انسان ہوتے ہیں جو عمر کے مختلف ادوار میں اپنے اپنے وجود سے تعلقات کی رنگین شمعیں روشن کرتے ہیں۔ اور جذبات کی قوس قزاح سجاتے ہیں……….. زندگی کے طویل سفر میں اگر کوئی ہمدم اور ہمدرد، ہمسفر نہ ہوتو راہ بہت کٹھن ہو جاتی ہے……. پرخلوص اور چاہنے والے ہمراہی کے ساتھ راه گزر، زمین پر اتری ہوئی کہکشاں لگتی ہے جس پر چل کر خوبصورت اور چاہت کی منزلیں آسان ہو جاتی ہیں…….. تم ہمسفر ہوئے تو ہوئی زندگی عزیز ورنہ تو ہم میں جینے کا یہ حوصلہ نہ تھا  میں ایک عام گھریلولڑکی ہوں لیکن یہ کہ حساس الطبع ہوں اور ہر بات کو گہرائی کے ساتھ محسوس کرنے کی عادی ہوں…….. میری زندگی شروع سے ہی ہنگامہ خیز زندگی رہی ہے…….. مجھے اس ہنگامہ خیز زندگی سے جہاں لطف اندوز ہونے کا موقع ملا وہاں بعض ایسے مراحل اور مقامات بھی آئے کہ مجھے بے انتہا ذہنی دباؤ اور ٹینشن کا سامنا کرنا پڑا…….. لیکن میں کم ہمت لوگوں کی طرح درد کی اذیت میں کھوئے رہنے کے بجائے…

Aabroo (Mubashra Ansari) / آبرو از مُبشرہ انصاری
Uncategorized / May 10, 2019

Aabroo (Mubashra Ansari) آبرو از مُبشرہ انصاری پیشِ لفظ ابتداء ہے اس رب جلیل کے بابرکت نام سے، جو ہر ابتداء کی ابتداء سے ہے اور جس کی کوئی ابتداء ہی نہیں………… اور جو ہر انتہا کی انتہا تک ہے، اور جس کی کوئی انتہا ہی نہیں…. جو لوگ اللہ کے گھر کو اپنی عبادتوں سے آباد رکھتے ہیں ……….. اللہ ان کے گھروں کو اپنی رحمتوں سے آباد رکھتا ہے…….. میرے اعمال اس قابل نہیں کہ میں جنت مانگوں ….. اے اللہ! بس اتنی سی عرض ہے کہ  مجھے جہنم سے بچانا …… (آمین ثم آمین) درس گاہوں کے نصابوں اور کتابوں کی قابلیت علم تو دے سکتی ہے مگر عملی تجربات کا امتحان پاس نہیں کراسکتی……….. بزرگوں کا تجربہ جو دنیائے درس گاہ میں زندگی کے نصاب سے ملتا ہے، وہ دنیا کی کسی کتاب میں نہیں ملتا…………. یہ کتاب صرف وقت کے قلم سے عمر کے صفحات پر بڑی محنت سے لکھی جاتی ہے۔۔۔ حضرت علی کا قول ہے: “بارش کا قطرہ سیپی اور سانپ دونوں کے منہ میں گرتا ہے……… سانپ اسے زہر بنا دیتا ہے اور سیپی اسے موتی……… جس کا جیساظرف، ویسی ہی اس کی تخلیق!” بنا درد کے آنسو بہائے نہیں جاتے بنا…

Baawri Piya Ki (Mubashra Ansari) / باوری پِیا کی از مُبشرہ انصاری
Uncategorized / May 9, 2019

Baawri Piya Ki (Mubashra Ansari) باوری پِیا کی از مُبشرہ انصاری پیش لفظ! محبت کہنے میں پڑھنے میں اور سننے میں بظاہر چار حرفی لفظ ہے۔ مگر اس ایک لفظ میں اک جہاں بسا ہوا ہے۔ اس جہاں میں ستم کی لال آندھیاں بھی ہیں اور دلی سکون پہنچاتی ہوائیں بھی۔۔۔۔ کہیں غموں کی پھوار ہے تو کہیں خوشیوں کی برسات ہے… کہیں خاموشیوں کی صدائیں ہیں تو کہیں گنگناتی ہوائیں ہیں…. اس ایک لفظ میں بہت کچھ پوشیدہ ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس ایک لفظ کے سمندر میں ہمارے لئے کیا سبق پوشیدہ ہے ہم تو بس اس ایک لفظ سے متاثر ہو کر آنکھیں موندے کامل یقین سے اس محبت کے سمندر میں غوطہ لگا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر کیا حاصل اور کیا لاحاصل………..؟ محبت مہربان ہو جائے تو ہر موسم بہار کا موسم لگتا ہے۔ اور اگر محبت بے مروت نکلے تو انسان اس قدر ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے کہ ان ٹوٹے ٹکڑوں کے آر پار سے ہماری گھائل روح تک دیکھائی دینے لگتی ہے… اور یہ روح صرف اسی کو دیکھائی دیتی ہے جو صاحب نظر ہو…………. جوزِی حس ہو………. خاموش چهره، خاموش لفظ کی طرح صاحب نظر انسان کے سامنے بولتا ہے۔ خاموشی خود گویائی…

Bas Tujh Ko Paana Hai (Mubashra Ansari) / بس تُجھ کو پانا ہے از مُبشرہ انصاری
Uncategorized / May 8, 2019

Bas Tujh Ko Paana Hai (Mubashra Ansari) بس تُجھ کو پانا ہے از مُبشرہ انصاری پیشِ لفظ بس تجھ کو پانا ہے میرا پہلا مکمل ناول ہے۔ اس سے ملنے والے فیڈ بیک سے میرا حوصلہ بڑھا اور میرے تمام افسانے’’ماں تجھے سلام“، “دلِ زار”، “گلِ تر“ اور ”تو کہاں آ گئی زندگی‘‘ ایک کے بعد ایک نے شائع ہو کر قارئین کے دلوں میں میری جگہ مضبوط کی اور مجھے پیہچان کے اس مقام تک پہنچایا جس کے لیے میں اپنے تمام چاہنے والوں کی دل سے مشکور ہوں۔ یہ دنیا گناہوں کے مرض میں اس قدر مُبتلا ہے کہ کسی کو اپنی موت تک یاد نہیں۔ یہ دنیا ایک کمرہ امتحان ہے اور ہم سب یہاں اپنی پیدائش سے موت تک مختلف قسم کے ٹیسٹ دینے کے لیے آئے ہیں ۔ ہم پیپر کیسے بھی دیں، ان کا چیکر صرف اور صرف الله تعالی ہے۔ اگر یہ بات تمام انسان اپنے دل ودماغ میں بٹھالیں تو میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی انسان گناہ کی دہلیز پار کر پائے گا۔ گناہوں کے مرض کی صرف اور صرف ایک ہی دوا ہے وہ یہ کہ حیا کے پھول، صبرشکرکے پھل، عجزونیاز کی جڑ، غم کی کونپل، سچائی کے درخت…

Saari Bhool Hamari Thi (Rahat Jabeen) / ساری بُھول ہماری تھی از رحت جبیں
Uncategorized / May 7, 2019

Saari Bhool Hamari Thi (Rahat Jabeen) ساری بُھول ہماری تھی از رحت جبیں پیش لفظ  سنو! تم میری ماما سے کہہ سکتی ہو کہ میں کل تمہارے ساتھ تمہارے گھر گئی تھی۔ میں نے سراٹھا کراُن نوخیز چہروں کے عقب کی کہانی کھوجنے کی سعی کی۔ کیوں؟ “میری کزن نے کل مجھے “اُس” کے ساتھ دیکھ لیا تھا۔” میں ساکت سی رہ گئی۔ میں انہیں روکنا چاہتی تھی۔ انہیں بتانا چاہتی تھی کہ “اے نوخیز تتلیو! یہیں رک جاؤ۔ ورنہ تمہارے پرجل جائیں گے۔۔۔ کہکشاں سمجھ کر جس رستے پر قدم رکھا ہے۔۔۔ وہاں پاؤں فگار ہوتے ہیں۔ وہ مجھ سے دور جا چکی تھیں اور میں آنکھوں میں آئی دھند کے پار سفید یونیفارم میں موجود لڑکیوں کو دیکھ رہی ہوں۔۔۔ میرا ماضی میرا ہاتھ پکڑ کر مسکرارہا ہے۔ جہاں میں اور فاخرہ اپنے اپنے بیگ کندھوں پر لٹکائے، فائل ہاتھوں میں پڑے اپنے نئے نئے جوگرز کو دیکھ رہی تھیں۔ آج کالج میں پہلا دن تھا۔۔۔ “امی السلام علیکم! ابائی السلام علیکم” اورابائی کا ہاتھ ہم دونوں کے سروں پر باری باری ٹھہرا۔ (تب وہ ہاتھ اتنا بوڑھا نہیں تھا۔) “بیٹا! سیدھے کالج جانا اور سیدھے گھر آنا ہے۔“ اس ایک جملے کی نصیحت نے ہمارے گرد حدود…

Tazkirah Qurani Khawateen / تذکرہ قرآنی خواتین
Uncategorized / May 6, 2019

Tazkirah Qurani Khawateen تذکرہ قرآنی خواتین فہرست مضامین انتساب بہ فیضان کرم عرض ناشر                     ازسید محمد شجاعت رسول شاہ قادری پیش لفظ                         از مؤلف (محمد یوسف کیفی) کلمات تشکر                     از مؤلف احقر العباد محمد یوسف کیفی تعارف اور تصنیفات کے آئینے اُمہاتُ الانبیا علیہم السلام حضرت حواعلیہا السلام حضرت موسٰی علیہ السلام کی والدہ محترمہ “یوکید” حضرت سارہ رضی الله عنہا، حضرت اسحٰق علیہ السلام کی والدہ محترمہ حضرت ہاجرہ رضی الله عنہا، (حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ) حضرت مریم رضی الله عنہا، (حضرت عیسٰی علیہ السلام کی والدہ محترمہ) ازواج الانبیاء علیہم السلام حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی بیویاں حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام کی بیویاں حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی (وائلہ) حضرت زکریا علیہ السلام کی زوج محترمہ حضرت صفورا زوجہ حضرت موسٰی علیہ السلام بی بی رحمت بنت افراثیم (زوجہ حضرت ایوب علیہ السلام) حضرت لیا اور حضرت راحیل علیہما السلام (حضرت یعقوب علیہ السلام کی بیویاں) فرعون کی مومنہ بیوی حضرت آسیہ رضی الله عنہا عزیز مصر کی بیوی (زلیحا) حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ محترمہ (حنہ) حضرت موسٰی علیہ السلام کی ہمشیرہ مریم رضی الله عنہا ازواج النبی آنخضرت ﷺ کی ازواجِ مطہرات فضائل ازواج النبی اُم المؤمنین…

Razia Sultana (Khan Asif) / رضیہ سُلطانہ از خان آصف
Uncategorized / May 4, 2019

Razia Sultana (Khan Asif) رضیہ سُلطانہ از خان آصف پیش لفظ رضیہ سلطان جرات و ہمت کا ایک مثالی پیکرتھی ۔ ترک نسل سے تعلق رکھنے والی یہ شہزادی ایک درویش صفت اور مردشجاع کی بیٹی تھی۔ اس کا باپ شمس الدین التمش نہ صرف ایک صاحب کردار اور خوف خدا رکھنے والا بادشاہ تھا بلکہ ایک مردِ آہن بھی تھا۔ اور کیوں نہ ہوتا وہ ایک ولی کامل کی دعاؤں کے زیر اثر تھا۔ اسی خوش نصیبی نے اسے دوسرے بادشاہوں سے ممتاز کر دیا تھا۔ اس کا دورحکومت مسلمانوں کی تاریخ کا بہترین دور تھا۔ التمش اپنی بیٹی سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ اس نے اپنی بیٹی کی پرورش عام انداز سے نہیں کی تھی۔ دینی و دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ رضیہ سلطان نے سپاہ گری میں بھی مہارت حاصل کی ۔ وہ صرف ملکوتی حسن رکھنے والی شہزادی ہی نہیں بلکہ عسکری تربیت سے بھی مالا مال تھی۔ التمش اس لحاظ سے بدقسمت تھا کہ اس کے ناکارہ بیٹوں میں سے کوئی بھی اس کے اقتدارِعالیشان کو سنبھالنے کے قابل نہیں تھا۔ اسی لیے اس نے اپنی ذہین اور لائق بچی کو اپنے بیٹوں پر ترجیح دی اور عنانِ حکومت اس کے سپرد کی،اگرچہ رضیہ…